
عوامی ایم این اے و مرکزی انفارمیشن سیکرٹری کسان ونگ پاکستان تحریک انصاف چوہدری خالد نواز سدھرآئچ صاحب، جنرل سیکرٹری پنجاب پی ٹی آئی کسان ونگ و ایم پی اے اعجاز شفیع صاحب، ایم پی اے ڈاکٹر فیصل جمیل صاحب، ایم پی اے جام امان اللہ صاحب ضمیر الحسن بھٹی صاحب پارٹی رہنماوں کی ملک کی سیاسی حالات پارٹی امور اور کسانوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا Sort Order Upload Upload Image Bundle Images (select multiple — the top one is the cover) Category (required) Sort Order Bundle Description (optional) Upload Bundle Gallery Items Loading...

چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر خان صاحب سے ملاقات۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے کسان ونگ کے سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرآئچ کی علی امین گنڈاپور سے اہم ملاقات اسلام آباد: Kpk ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے متحرک رہنما، کسان ونگ کے سیکرٹری اطلاعات اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے عوامی ایم این اے، جناب خالد نواز سدھرآئچ نے خیبرپختونخوا کے چیف منسٹر اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما جناب علی امین خان گنڈاپور سے ایک خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، کسانوں کو درپیش مسائل اور تنظیمی امور پر تفصیلی مشاورت کے حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل رہی۔ دونوں رہنماؤں نے تحریک انصاف کے منشور اور عوامی فلاح کے مشن کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ کسانوں کے حقوق، زرعی اصلاحات اور پسماندہ طبقات کی فلاح پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ خالد نواز سدھرآئچ نے علی امین گنڈاپور کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام دوست پالیسیوں کا تسلسل تحریک انصاف کی نظریاتی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ نے خالد نواز سدھرآئچ کے سیاسی کردار اور کسان ونگ میں ان کی خدمات کو سراہا

پاکستان تحریکِ انصاف کے کسان ونگ کے سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرآئچ کی علی امین گنڈاپور سے اہم ملاقات اسلام آباد: Kpk ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے متحرک رہنما، کسان ونگ کے سیکرٹری اطلاعات اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے عوامی ایم این اے، جناب خالد نواز سدھرآئچ نے خیبرپختونخوا کے چیف منسٹر اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما جناب علی امین خان گنڈاپور سے ایک خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، کسانوں کو درپیش مسائل اور تنظیمی امور پر تفصیلی مشاورت کے حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل رہی۔ دونوں رہنماؤں نے تحریک انصاف کے منشور اور عوامی فلاح کے مشن کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ کسانوں کے حقوق، زرعی اصلاحات اور پسماندہ طبقات کی فلاح پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ خالد نواز سدھرآئچ نے علی امین گنڈاپور کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام دوست پالیسیوں کا تسلسل تحریک انصاف کی نظریاتی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ نے خالد نواز سدھرآئچ کے سیاسی کردار اور کسان ونگ میں ان کی خدمات کو سراہا

چیف ارگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ ملک کی گرفتاری کی پر زور مذمت کرتے ہیں میڈم نے مشکل حالات میں پارٹی کو متحرک کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا خالد نواز سدھرآئچ ترجمان پاکستان تحریک انصاف کسان ونگ

حق و سچ کی جدوجہد میں ہم اپنے قائد کے خاندان اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح موجود۔
2خالد نواز سدھرآئچ کی سہیل خان آفریدی کو سٹریٹ مومنٹ کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے
3مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف کسان ونگ خالد نواز سدھرآئچ اور ممبران قومی و صوبائی اسمبلی 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے سیاسی پشاور مشاورتی اجلاس میں شرکت ۔۔
4گندم بحران کی ذمہ دار حکومتی پالیسیاں ہیں، کسان اور مزدور اپنے حقوق کے لیے متحد ہوں: خالد نواز سدھرآئچ فیصل آباد: پاکستان تحریک انصاف کسان ونگ کے ترجمان خالد نواز سدھرآئچ، نعیم حیدر پنجوتہ اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کا فیصل آباد میں مزدور تنظیموں سے خطاب
6فیصل آباد :۔ سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ ،ترجمان پاکستان تحریک انصاف کسان ونگ خالد نواز سدھرآئچ ممبرز مانئٹرنگ کمیٹی پنجاب ،نعیم حیدر پنجوتھہ ،شوکت محمود بسرا کی صاحبزادہ حامد رضا کے گھر آمد خریت دریافت کی حسن رضا سے ملاقات ،ویسٹ پنجاب کے تمام ٹکٹ ہولڈرز، ایم پی ایز ،سٹیک ہولڈرز ضلعی صدور سیکرٹریز سے بھی ملاقات ہوئی
2پاکستان تحریکِ انصاف کسان ونگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرآئچ نے قائدِ حزبِ اختلاف جناب محمود خان اچکزئی کو ’’پاکستان میں گندم کے بحران پر وائٹ پیپر‘‘ پیش کیا ملاقات کے دوران پاکستان کے گندم کے شعبے اور کسانوں کو درپیش سنگین مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جن میں زرعی پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ، کسان کی کم ہوتی آمدن، گندم کی خریداری اور قیمتوں کے تعین کی پالیسیوں میں خامیاں، اور ایک طویل المدتی، پائیدار اور کسان دوست قومی گندم پالیسی کی فوری ضرورت شامل ہیں یہ وائٹ پیپر پاکستان تحریکِ انصاف کسان ونگ کی جانب سے کسانوں کے مسائل اور آواز کو قومی پالیسی سازی کے فورمز تک پہنچانے اور ملک میں غذائی تحفظ، گندم کی پائیدار پیداوار اور زرعی معیشت کے تحفظ کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کی ایک سنجیدہ کاوش ہے۔ مضبوط کسان ہی غذائی طور پر خودکفیل اور معاشی طور پر مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔ خالد نواز سدھرآئچ مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریکِ انصاف کسان ونگ #PTIKissanWing #WheatCrisis #PakistanAgriculture #Farmers #FoodSecurity #WheatPolicy
1پیشاور 12 اگست: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کسان ونگ نے ایک جامع وائٹ پیپر جاری کیا ہے جس میں حکومت کی مسلسل اور ناکام پالیسیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ ان پالیسیوں نے پاکستان کے گندم کے شعبے کو تاریخ کے شدید ترین بحران میں دھکیل دیا ہے، جس سے قومی فوڈ سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں، لاکھوں کسان خاندان تباہ حالی کا شکار ہیں اور ملک کلو دارآمدی گندم پر انحصار بڑھانے پر مجبور ہو رہا ہے۔ یہ وائٹ پیپر بدھ کے روز پشاور پریس کلب میں پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان اور کسان ونگ کے آرگنائزر شیخ وقاص اکرم (ایم این اے) اور پی ٹی آئی کسان ونگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرائچ نے پیش کیا۔ اس موقع پر نائب صدر پی ٹی آئی کسان ونگ پنجاب ایم این اے میاں غوث محمد، جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی کسان ونگ پنجاب اعجاز شفیع، ایم این اے فیصل امین گنڈاپور، ایم این اے مبین عارف جٹ، ڈاکٹر فیصل جمیل ایم پی اے، جام امان اللہ اور دیگر پی ٹی آئی رہنما بھی موجود تھے۔ شیخ وقاص اکرم اور خالد نواز سدھرائچ نے بتایا کہ یہ وائٹ پیپر قیامِ پاکستان سے لے کر 2026 تک کی گندم کی معیشت کا احاطہ کرنے والی وسیع تحقیق کا نتیجہ ہے۔ اس میں تاریخی اعداد و شمار، پالیسی کا تجزیہ، پیداواری رجحانات، خریداری کے ریکارڈ، امدادی قیمت کا طریقہ کار، درآمدی فیصلے، زرعی تحقیق کی کارکردگی، پیداواری لاگت اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا تفصیلی جائزہ شامل ہے جو ملک کی اس سب سے اہم فصل کی مسلسل تنزلی کی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ وائٹ پیپر کے مطابق زرخیز زمین، وسیع نظامِ آبپاشی اور تجربہ کار کسانوں کی موجودگی کے باوجود پاکستان پالیسیوں میں عدم تسلسل، ناقص گورننس، تاخیر سے کیے جانے والے فیصلوں اور شعبہ زراعت کی مسلسل نظر اندازی کی وجہ سے گندم میں پائیدار خودکفالت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023-24 کے دوران اگرچہ گندم کی پیداوار تقریباً 31.43 ملین ٹن تک پہنچ گئی تھی، لیکن بعد میں آنے والی غلط پالیسیوں، گندم کی خریداری میں غیر یقینی صورتحال، فارم گیٹ کی کم قیمتوں اور مارکیٹ میں مؤثر مداخلت نہ ہونے کے باعث کسان گندم کی کاشت سے بددل ہوئے اور پیداوار میں نمایاں کمی آئی۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کئی کسان گندم کی کاشت مکمل طور پر چھوڑ رہے ہیں جبکہ دیگر مالی نقصانات کے باعث اپنی زرخیز زمینیں بیچ کر زراعت سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ وائٹ پیپر میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ کھاد، ڈیزل، بجلی کے نرخوں، آبپاشی کے اخراجات، بیج، کیڑے مار ادویات اور مزدوری کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے کاشتکاری کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جبکہ کسانوں کو فصل کی قیمت اصل لاگت سے بھی بہت کم مل رہی ہے۔ اس بڑھتے ہوئے فرق نے زرعی منافع بخش طبقے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور لاکھوں دیہی خاندانوں کے روزگار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گندم کی درآمد اور برآمد سے متعلق بار بار پالیسیاں بدلنے سے مقامی منڈیوں کو نقصان پہنچا، بااثر مڈل مین اور منافع خور تاجروں کو فائدہ ہوا اور قومی فوڈ سیکیورٹی کمزور ہوئی۔ طویل مدتی منصوبے کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان گندم برآمد کرنے والے ملک کے بجائے مہنگی گندم درآمد کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ وائٹ پیپر میں زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی کسانوں تک عدم منتقلی پر بھی تشوییش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ناقص فنڈنگ، توسیع کی کمزور خدمات اور ادارہ جاتی نااہلی کی وجہ سے پاکستان کے تحقیقی اداروں کی سائنسی ایجادات کسانوں تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔ رپورٹ میں زرعی تحقیقی اداروں میں جامع اصلاحات، صوبائی محکموں کے ساتھ بہتر تعاون، اور جدید بیج و موسم کے اثرات سے محفوظ ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کسان ونگ نے زور دیا کہ موجودہ بحران صرف زراعت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی معیشت اور سلامتی کا چیلنج ہے۔ گندم کی قیمتیں براہ راست غذائی اجناس، افراطِ زر، دیہی روزگار، غربت اور سیاسی استحکام پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو بار بار خوراک کی قلت، آٹے کی بڑھتی قیمتوں اور غیر ملکی منڈیوں پر انحصار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وائٹ پیپر میں ایک جامع قومی اصلاحاتی ایجنڈا پیش کیا گیا ہے جس میں گندم کی بروقت اور تضمین شدہ خریداری، لاگت کے مطابق شفاف امدادی قیمت کا تعین، مارکیٹ میں احتکار (ذخیرہ اندوزی)، کارٹلائزیشن اور سٹا بازی کا خاتمہ، سستے زرعی ان پٹس (کھاد، ڈیزل، بجلی اور بیج) کی فراہمی، تصدیق شدہ بیجوں کی پیداوار میں اضافہ اور آبپاشی کے نظام کو جدید بنانا، زرعی تحقیقی اداروں کی بحالی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید موسمیاتی تکنیکوں کو اپنانا اور گندم کے حکمت عملی پر مبنی ذخائر قائم کرنا، اور سائنسی منصوبہ بندی پر مبنی طویل مدتی قومی غذائی تحفظ پالیسی کی تشکیل شامل ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کسان ونگ کے آرگنائزر شیخ وقاص اکرم، مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرائچ اور دیگر مقررین نے کہا کہ وائٹ پیپر کا مقصد صرف حکومت پر تنقید کرنا نہیں بلکہ پاکستان کی زراعت کو بچانے کے لیے عملی اور شواہد پر مبنی حل فراہم کرنا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان شاید پہلے اور واحد وزیراعظم تھے جنہوں نے خود کسانوں کے کھیتوں کا دورہ کیا، ان کے ساتھ بیٹھ کر مسائل سنے اور گندم کی پیداوار و زرعی پالیسی کے مسائل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ایک جامع قومی زرعی پالیسی پر کام شروع کیا تھا تاکہ بنیادی کمزوریوں کو دور کر کے زراعت کو جدید اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے، تاہم ان کی حکومت کو اصلاحات مکمل ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا: "یہ وائٹ پیپر پالیسی سازوں کے لیے ایک انتباہ ہے۔ جو قوم اپنے کسانوں کا تحفظ نہیں کر سکتی، وہ اپنی فوڈ سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ پاکستان کے پاس گندم میں خودکفیل ہونے کے تمام قدرتی وسائل موجود ہیں، لیکن مسلسل ناکام پالیسیوں نے کسانوں اور صارفین دونوں کو نہج پر پہنچا دیا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سائنس، شفافیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور کسان دوست پالیسیوں پر مبنی قومی زرعی بحالی کا آغاز کیا جائے۔ پی ٹی آئی کسان ونگ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، اراکینِ پارلیمنٹ، زرعی ماہرین، تحقیقی اداروں اور تمام سیاسی دھاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ زراعت کو قومی ترجیح بنائیں اور کسانوں کا اعتماد بحال کرنے، غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور پاکستان کے معاشی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فوری طور پر وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کریں۔
4خالد نواز سدھرآئچ امیدوار برائے قومی و صوبائی اسمبلی راولپنڈی میں تحریک انصاف کی جانب سے نکالی جانے والی " آئین بچاؤ ملک بچاؤ "ریلی میں مرکزی قیادت کے ھمراہ شریک ھی
4عوامی MNA خالد نواز سدھرآئچ کی پی ٹی مرکزی قیادت اور پارٹی عہدے داروں کے ہمراہ سپریم کورٹ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک تحریک انصاف کے ایم این ایز اور Form 45 کے مطابق MNA کی احتجاجی واک
1عوام کے منتخب کردہ فارم 45 حقیقی MNA این اے 106 ٹوبہ ٹیک سنگھ ، مرکزی رہنما پاکستان تحریک انصاف کسان ونگ خالد نواز سدھرآئچ صاحب ، MNA این اے 105گوجرہ اسامہ حمزہ صاحب ، MPA (ر) میجر غلام سرور صاحب صدر پنجاب پی ٹی آئی کسان ونگ کے ساتھ عمران خان صاحب کے کیسز کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر موجود
8ترجمان پاکستان تحریک انصاف کسان ونگ، چوہدری خالد نواز سدھرآئچ عمران خان صاحب کے کیسز کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر پارٹی قیادت کے ہمراہ موجود
4عمران خان کی بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے عوامیMNA ٹوبہ ٹیک سنگھ مرکزی ترجمان پاکستان تحریک انصاف کسان ونگ چوہدری خالد نواز سدھرآئچ پی ٹی آئی قیادت اور ورکرز کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر موجود
2الیکشن مینجمنٹ ہیڈ محترم جناب فیصل شیر جان صاحب، سینیٹر خرم ذیشان صاحب اور الیکشن مینجمنٹ سیل نارتھ پنجاب کے افراسیاب صاحب کے ساتھ عوامی ایم این اے این اے 106 ٹوبہ ٹیک سنگھ، چوہدری خالد نواز سدھرآئچ کی ایک اہم بیٹھک ہوئی
4آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور نارتھ پنجاب کے معزز دوست احباب کے ساتھ عوامی ایم این اے این اے 106 ٹوبہ ٹیک سنگھ، چوہدری خالد نواز سدھرآئچ کی بیٹھک
4مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرآئچ ، سنئیر نائب صدر میاں غوث، ممبر نیشنل اسمبلی خرم شہزاد ورک، صدر پنجاب کسان ونگ اویس جھکھڑ ، ممبر نیشنل اسمبلی بریگیڈر ریٹائرڈ اسلم گھمن اور ممبر نیشنل اسمبلی ڈاکٹر عظیم الدین لکھوی اسلام آباد میں کسان ونگ کی جاری پریس کانفرنس میں موجود
5مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف کسان ونگ عوام کے منتخب کردہ حقیقی MNA ٹوبہ ٹیک سنگھ خالد نواز سدھرآئچ عمران خان صاحب اور ان کی فیملی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر موجود.